Breaking News
Home / Attitude / Joy in World

Joy in World

انسان کا اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور تصورات کا اظہار آرٹ کہلاتا ہے اور جو اظہار کرتا ہے اسے آرٹسٹ کہا جاتا ہے.
عمومی طور پر آرٹسٹ فلم انڈسٹری اور رنگ سازی کے ساتھ وابستہ افراد کو کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ کہ یہ لوگ اپنے کام کو اس مہارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں سامنے والا دنگ رہ جاتا ہے اور اس کام کو پرفارم کرنے کے لیے انہیں جن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ یقیناً جان جوکھوں والا کام ہے.
شعبہ آرٹ کے بارے میں ایک جملہ کافی مشہور ہے کہ

"آپ اپنے کام کو ظاہر یا پبلش نہیں کر سکتے کیونکہ آپ ایک برانڈ نام نہیں ہیں اور آپ برانڈ نام نہیں بن سکتے جب تک آپ کا کام ظاہر ہا پبلش نہ ہوجائے.”

اس جملہ کی باریکی اس شعبہ سے وابستہ افراد ہی سمجھ سکتے ہیں
اس کو سادہ انداز میں سمجھنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس شعبہ میں میں اپنے جوہر دکھانے والے نوے فیصد سے زائد افراد کامیاب آرٹسٹ نہیں بن پاتے۔ 
یہ آرٹ کا موضوع میں نے اس لیے باندھا تھا کہ میں آپ کا ایک نہایت اہم اور گم نام آرٹ سے تعارف کروانا چاہتا ہوں۔ جی بالکل ایک ایسی آرٹ جس کی آج دنیا میں بنسے والے ہر ذی روح انسان کو ضرورت ہے لیکن اس کی طرف کچھ خاص اہمیت نہیں دی جاتی اس لیے یہ تخلیقی صلاحیت گم نام ہو کر رہ گئی ہے۔ تو سر اس آرٹ کا نام ” خوش رہنا و خوشی بکھیرنا ” ہے۔

یہ سچ ہے کہ تکالیف زندگی کی تلخ سچائیاں ہیں جو بڑے بڑے مظبوط انسانوں کو رونے اور افسوس کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے بہت سے انسانوں نے انہی تکالیف کے پہاڑوں کو جو غم و افسردگی کا سبب بنتی ہیں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیت سے آڑے ہاتھوں لے کر خود کو خوش رکھنے کی قابل تحسین کاوشیں کی ہیں۔ 
اور میری نظر میں یہ لوگ سب سے بڑے آرٹسٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ صرف آپ کے پریشان ہونے سے آپ کے اردگرد موجود دوست، احباب و رشتہ دار بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ آپ کی پریشانی کو آپ سے زیادہ محسوس کرجاتے ہیں۔ ان میں اکثر اوقات ماں باپ، بہن بھائی، شریک حیات، قریبی رشتہ دار اور اگر آپ بہت زیادہ خوش قسمت ہیں تو بعض اوقات آپ کو ایسے دوست بھی مل جاتے ہیں جو آپ کی مشکلات کو آپ سے زیادہ خود کی سمجھتے ہیں۔

8 سے 9 سال کہ ایک بچے کو کسی کے غم یا پریشانی کا کتنا احساس ہوتا ہے؟ یہ آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ چاہے اسکے والدین کسی بھی حالت میں ہوں اس عمر میں بچے صرف و صرف ماں باپ سے ضد کرکے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن میں ذاتی طور پر ایک اندوہناک واقعے کا شاہد ہوں جس میں والد کی طعبیت خراب تھی اور دن بدن مزید بگڑتی جا رہی تھی تو ان صاحب کے 8 سے 9 سال کے بچے کے والد کی تکلیف کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کرلی اور اس کے کچھ دن بعد اس بچے کے والد کی بھی وفات ہوگئی۔ جوکہ یقینا ان کی پوری فیملی کے لیے ایک دلخراش واقعہ ثابت ہوا۔

اقوام متحدہ نے اس آرٹ کے لیے باقاعدہ طور پر بین الاقوامی سطح پر ایک ایجنسی کا اہمتمام کیا ہے۔ جس کا نام 
“World Happiness Report”
ہے۔ 
اس رپورٹ کے مطابق ناروے کو دنیا کا سب سے زیادہ خوش و خرم ملک قرار دیا گیا ہے جبکہ گذشتہ برس ڈنمارک پہلے نمبر پر تھا۔ اور نہایت افسوس کہ ساتھ سب صحارا کے خطے میں افریقی ممالک کو سب سے نا خوش قرار دیا گیا ہے۔ 
امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی اکانومی ہے اس لسٹ میں اسکا نمبر بھی 14 ہے۔ اور وطن عزیز پاکستان کو اس فہرست میں 80 واں بتایا گیا ہے جبکہ انڈیا 122 ویں نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ بنانے کے عمل میں معاشی ترقی، سوشل سپورٹ، اظہار رائے کی آزادی، اوسط عمر، ڈونیشن اور اینٹی کرپشن جیسے عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ 
تو سر آپ نے خوشی حاصل کرنے، خوش رہنے اور خوشیاں بانٹنے کے مختلف اصول و قواعد کا مطالعہ کیا ہوگا جو با آسانی آپ کو گوگل سرکار سے مل جاتے ہیں لیکن اس حوالے سے میں نے اپنی زندگی سے خوش رہنے کا ایک ہی اصول سیکھا ہے وہ یہ کہ

آپ کو خوش رہنا ہوگا 
آپ کو خوش رہنا ہوگا 
اور 
آپ کو خوش رہنا ہوگا

اگر نہیں رہ سکتے تو آپ کو خوش رہنے کی کوشش کرنی پڑے گی تب ہی آپ خوشیاں بانٹ سکیں گے ورنہ غم تو آپ کو اور سارے زمانے کو گھیرے کھڑے ہیں۔
اور اگر اس کے باوجود بھی آپ ناخوش یا اداس رہنا چاہتے ہیں تویہ میرا مشورہ ہے آپ سے کہ خدارا پاکستان کے ان 25 ملین بچوں کا سوچ کو اداس ہوں جو آج بھی سکول نہیں جا سکتے۔
اگر اداس رہنا ہے تو پاکستان کے ان 39 فیصد عوام کے لیے اداس و پریشان ہوں جو آج بھی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 
پھر اگر یہ غم آپکو جذبہ حب الوطنی سے سرشار کرکے کچھ کرگزرنے پر مجبور کردے تو یہ غم بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔

نوٹ ( ہم ” ایک درست فیصلہ ” کے پلیٹ فارم سے پرسنل و پرفیشنل لائف ڈیولپمنٹ کے لیے ریگولر بنیادوں پر تخلیقی صلاحیتوں پر مشتمل مضامین کا آغاز کررہے ہیں جو معاشرے کے ہر قسم کے فرد کے لیے خواہ وہ طلباء و طالبات ہوں، جاب پیشہ و کاروباری حضرات ہوں یا گھریلو خواتین کا اپنا نظام زندگی کی بہتر بنانے کی کاوش ہو، امید کرتے ہیں کہ یہ سب کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔ جن کو مرحلہ وار ہمارے درج ذیل پلیٹ فارمز کے توسط سے آپ تک پہنچایا جائے گا۔ آپ ان میں سے کسی میں بھی شامل ہوکر ان سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار فرما کر ہماری مدد بھی کرسکتے ہیں)

Website: www.arightdecision.com
FB Page: www.facebook.com/arightdecision
FB Group: http://bit.do/eydbZ 
WhatsApp Group: http://bit.do/eydb3
Direct WhatsApp: +92 336 8799655
Email: mohsinalird@gmail.com

Other Accounts:

YouTube: http://bit.do/eydb8
Email: admin@arightdecision.com
Twitter: www.twitter.com/arightdecision
Instagram: www.instagram.com/arightdecision
LinkedIn: www.linkedin.com/in/arightdecision
Pinterest: www.pinterest.com/arightdecision
Tumbler: www.arightdecision.tumblr.com
Flicker: www.flickr.com/photos/arightdecision
Google+: http://bit.do/eydb9
Quora: www.arightdecision.quora.com

Check Also

خود کلامی

خود کلامی

یہ کیا روز روز ڈرامے بازی لگا رکھی ہے؟ایک دفعہ میں تمہیں بات سمجھ نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے