Breaking News
Home / Human Rights / چنبیلی کی کہانی

چنبیلی کی کہانی

تمہاری ماں  نے تمہیں یہی تمیز سکھائی  ہے کہ بڑوں  کے ساتھ ایسا بولو اس  نے نہا یت مغرور ہو کرغصے  کے عالم میں اپنی بھابھی چنبیلی کو طنزاً کہا
وہ بھی بول اٹھی کیوں کہ بات جب اس تک تھی وہ برداشت کرتی رہی لیکن اب نند نے نفرت بھرے انداز میں روزانہ اس  کے ماں باپ سمیت پورے خاندان کو گالیاں دینا شروع کر دیں تھی اب بابُل کی رانی  سے یہ برداشت نہ ہوا اور اس  نے آگے  سے چند معقول جواب دے دیے بس پھر کیا تھا طوفان کھڑا ہوگیا. طبل جنگ بج گیا جو بڑی بہن پہلے ہی مہینے سے ان  کے گھر میں بسیرا کیے ہوئے تھی وہ طیش میں آ گئی کیونکہ اس کے بھائی کی بیوی جسے وہ بغیر زر خرید غلام کے طور پر لائے تھے اس نے عظیم الشان گستاخی کا ارتکاب کر دیا تھا لہذا اس ناقابل معافی جرم کے عوض اس پاپا کی گڑیا کو سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا.
شوہر کی سب بہنوں کو بہنوئی سمیت بلا لیا گیا تاکہ تماشے کے ساتھ ساتھ کچھ دنوں تک دعوتیں بھی اڑا لی جائیں، تایا ابو کو تائی امی کے سمیت اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے بلاوا پہنچ گیا. چچا جان تو پہلے ہی تیار تھے جبکہ چچی اور ان کی بیٹیاں تو زندگی میں پہلی دفعہ اتنی جلدی تیار ہو کر بغیر فشل کیے محاذ آرائی پر جانے کے لئے تیار بیٹھی تھیں، شوہر کے ماں باپ تو پہلے ہی چنبیلی کو اپنی نظروں سے گرا چکے تھے کیونکہ وہ غیر خاندان سے آئی تھی. غرض ساری فوج نے تیار ہوکر دھاوا بول دیا مگر جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں سوچا کیوں نہ شکست دینے سے پہلے ایک دفعہ صلح کے معاہدے کی آڑ میں اس کے غریب اور بدتمیز ماں باپ کو ذلیل کیا جائے لہذا انہیں بھی بلا لیا گیا.
اس جھوٹی عزت کی بھینٹ چڑھنے والی بھائی کی بلبل کے ماں باپ بھی اس کے دو بھائیوں سمیت آن پہنچے
ان کے آتے ہی جنگ شروع کر دی گئی. نہایت ادب و احترام کے ساتھ ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا الزامات کی بارش ہوئی، اس کی پاک عزت پر داغ لگائے گئے موقع پر موجود گواہان کو بھی ساتھ والے گھر سے بلا لیا گیا جن کے پورے خاندان کے چنبیلی کے شوہر کے بڑے بھائی کی بیوی سے اچھے تعلقات تھے.
دوسری طرف بیچارے ماں باپ سنتے رہے اس دوران ایک بھائی سے برداشت نہ ہوا تو اس نے اس ادب سے بھری اس محفل میں زبان دراز کرنے کی کوشش کی تو اس کی اپنی ہی والدہ محترمہ نے اپنے بیٹے کے کان میں کہا

"بیٹا تو چپ کرجا کری والے مارے ہوندے نیں "

چنبیلی کی پاکدامنی پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ کس حد تک جاری رہا وہ تو آپ کو میں نہیں بتا سکتا کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ ہمت چاہیے جو میرے پاس نہیں لیکن یہ ضرور بتا دیتا ہوں کہ چنبیلی نے اپنی نند کے روز کے طعن و تشنیع جو کہ اس کے ماں باپ تک جا پہنچا تھا اس کے مقابلے میں معقول سا جواب صرف یہ دیا تھا کہ میرے ماں باپ کو برا بھلا مت کہو اور کیا آپ روز روز ادھر آ کر میرے ساتھ یہ…………………..

اس سے آگے میں سن نہیں پایا تھا کیونکہ چنبیلی کی آواز دب گئی تھی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے