Breaking News
Home / Awareness / فیصلہ سازی میں دل کا کردار

فیصلہ سازی میں دل کا کردار


انسانی جسم میں سب سے حسین تصور رکھنے والی چیز "دل” ہے. اس کے ساتھ انسان کا جذباتی، طبیعیاتی اور حساس نوعیت کا تعلق ہے گوکہ جدید میڈیکل ریسرچ زیادہ تر یہی ثابت کرتی ہے کہ دل کا کام جسم میں صرف خون کی گردش کروانا ہے لیکن مزید ریسرچ ابھی بھی جاری ہے اور ہوسکتا ہے کہ دل سے وقوع پذیر ہونے والے ان افعال کی تصدیق ہوجائے جن کا ہمارے شعراء، صوفیا اور فلسفی حضرات نے کثرت سے ذکر کیا ہے۔
لیکن پھر بھی ابھی تک معاشرتی طور پر دل کے خیالات و احساسات کی بہت زیادہ وقعت و اہمیت ہے اور بعض اوقات تو دماغی خیالات کو نسبتاً کم ترجیح خیال کیا جاتا ہے اور دل کے تصورات کو دماغ کی سوچ پر فوقیت دی جاتی ہے. اس کی کیا وجوہات ہیں؟ اور اس کے پیچھے کیا سٹرکچر ہے؟ یہ تو ایک الگ اور طویل موضوع ہے اس پر ہم اگلے کسی مضمون میں روشنی ڈالیں گے لیکن ایک بنیادی وجہ جو مجھے قریب الصحیح معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ معشوق یا محبوب کیونکہ دل میں بستا ہے اور اس سے وابستہ تعلق کو زیادہ تر دل سے ہی سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے اور محب خود سے زیادہ اپنے محبوب کو اہم سمجھتا ہے جس سے اس دنیا میں محبت و الفت کے رشتے قائم ہوتے ہیں اور اس لیے فلسفی و صوفیاء دل کو منبع و بنیاد قرار دیتے ہیں. لیکن یہ سب صرف اور صرف تصورات پر مبنی ہے اس کے حوالے سے ہمارے پاس کچھ حقائق موجود نہیں ہیں۔
لیکن فی الوقت میں ڈمیز بک سیریز میں شائع ہونے والے ایک مضمون جس کا ٹائٹل ” فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں ہمارے سر یعنی دماغ اور دل کا آپسی تعلق” ہے کی مناسبت سے کچھ پوائنٹس آپ احباب سے شیئر کر رہا ہوں تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں دل کا کیا کردا ر ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے۔

ہمارے دل کے 40 ہزار نیو رانز ایک پیچدہ سسٹم کے تحت ہمارے احساسات ، پیٹرن، اور یاد رکھنے کی صلاحیت کو پراسیس کرتے ہیں جو کہ واضح طور پر کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے میں ایک اہم کردارادا کرتے ہیں۔ 
جسم کا سینسر ڈیٹا جس میں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی ترتیب، اور دل کی دھڑکن کی سپیڈ وغیرہ کی پیمائش ہوتی ہے یہ دل کے نیورل سسٹم میں ہی پراسیس ہوتا ہے پھر یہ ہماری نسِ وگس اور ریڑھ کی ہڈی سے ہوتے ہوئے دماغ تک جا پہنچتا ہے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں ہمارے جسم کے اس سینسر ڈیٹا کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جو بواسطہ دل ہورہا ہے۔
نسِ وگس کے ریشوں میں 90 فیصد ڈیٹا جسم سے دماغ کو ترسیل ہوتا ہے اور صرف 10 فیصد ہدایات پر مبنی ڈیٹا دماغ سے جسم کو منتقل ہوتا ہے اس لحاظ سے نسِ وگس کا تناسب زیادہ قرار پاتا ہے جبکہ اوپر بتائے گئے پراسیس میں اس نس کا دل سے تعلق بتایا جا چکا ہے لہذا یہاں بھی فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں دل کا کردار واضح ہورہا ہے۔
اس لیے جب آپ جذباتی طور پر پریشانی، مایوسی، یا خود کو شکست خوردہ محسوس کرتے ہیں تو دل کی دھڑکن کی ترتیب فوراً بے ترتیبی میں ڈھل جاتی ہے جو کہ دماغ کے اہم ترین فنکشن فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو کافی حد تک متاثر کردیتی ہے اور یہ بے ترتیبی آپ نظام انضمام یعنی لاشعوری خیالات کو خراب کردیتی ہے جس سے ہمارے اکثر فیصلے درست نہیں ہوپاتے۔
اسکے برعکس جب آپ خوشگوار اور سنجیدہ موڈ میں ہوتے ہیں تو یہی نظام انضمام سینسر ڈیٹا میں ترتیب کے سبب ترقی پا جاتا ہے اور ہمارے فیصلے درست قرار پاتے ہیں۔
اس سے ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ دل فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کم ازکم فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں دل کا طعبیاتی کردار ضرور واضح ہوتا ہے۔

Check Also

destiny

قسمت آزمائی

اکثر لوگ مواقعوں کی تلاش میں اپنی زندگیاں صرف کردیتے ہیں اور وہ اس انتظار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے