Breaking News
Home / Awareness / (زندگی (قسط اول

(زندگی (قسط اول

(زندگی (قسط اول
یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے اندر نجانے کس حد تک معنی و راز چھپائے ہوئے ہے جس کو ہر گزرتے ھوقت کے ساتھ روز نئے طریقے سے دریافت کیا جا رہا ہے.
آج کی جدید سائنس بھی اس حوالے سے ہزاروں انکشافات کر چکی ہے اور مستقبل میں اسی طرح یہ بڑھتے رہیں گے.
 
ابھی تک اس موجودہ کائنات میں انسان کی زندگی ہی سب سے زیادہ پیچیدہ و اہم ترین نظر آتی ہے جس کی خاص ترین وجہ انسانی دماغ کا بذات خود انتہائی پیچیدہ ہونا ہے جو کہ جسم کا حساس ترین حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی بنیاد پر ہی انسان کو
 
"God’s Master Piece”
 
قرار دیا گیا ہے.
انسان نے ہی اب تک کی تمام دریافتوں اور انکشافات سے اس دنیا کو بہرہ ور کیا ہے اور انسان ہی مستقبل کی زندگی کو خطرات سے محفوظ اور بہترین بنانے کے لیے عملی کاوشوں میں مصروف ہے.
اس لیے ہم زندگی کی جہاں بھی بات کریں گے وہاں اکثر سے مراد انسانی زندگی ہی ہوگی. ہماری اس پہلی قسط میں میں آپ کو زندگی کے بارے میں کچھ حقائق سے آگاہ کیا جائے گا.
تو سر سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ زندگی ہے کیا؟
تو شروع یہاں سے کرتے ہیں کہ اس وقت زمین پر تقریباً 7 ارب 50 کروڑ انسان رہتے ہیں اور اب تک کی ریسرچ کے مطابق زمین کی 4.543 ارب سال عمر میں سے 66 ملین سالوں کے فوسلز ریکارڈ تلاش کیے جا چکے ہیں.
اور اب تک کی تاریخ کے مطابق اس زمین پر موجودہ آبادی کو ملا کر ایک کھرب 7 ارب انسان رہ چکے ہیں. اور اس وقت 8.7 ملین قسم کی زندگیوں کو جن کی اپنی اپنی ایک خاص تعداد جو اربوں کھربوں میں ہے اسے دریافت کیا جا چکا ہے جس میں سے 6.5 میلین زمین پر اور 2.2 میلین سمندر میں دریافت ہوئی ہیں. اور آپ جانتے ہوں گے کہ زمین کا 71 فیصد حصہ مکمل پانی اور 96.5 فیصد حصہ تقریباً پانی پر مشتمل ہے کیونکہ ہوا میں بھی پانی بخارات کی صورت میں موجود ہوتا ہے. اسطرح ابھی کتنے گنا زندگیوں کی دریافت باقی ہے؟ اور پھر آگے انکی ایک لا تعداد آبادی ہوگی.
لیکن ان میں میں سے 22 کروڑ کی انسانی زندگی کے حامل دنیا کی چھٹے گنجان آباد ملک پاکستان کے ایک صوبے کے ایک شہر یا قصبے کے ایک محلے کی ایک گلی کے ایک مکان میں رہنے والی زندگی آپ ہیں یا میں ہوں جس کے بارے میں ہم بات کررہے ہیں اور آپکی زندگی ہی سب سے اہم ہے یقیناً بہت اہم ہے جس کے بارے میں ہم بات کرتے رہیں گے.
 
میرا مقصد آپ کو یہ باور کروانا ہے کہ آپ یہ سمجھ سکیں کہ مائیکل ہارٹ نے جب 100 عظیم شخصیات نامی کتاب لکھی جن کی زندگی کی وجہ سے ان ادوار کے لوگ ان شخصیات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے. جنہوں نے تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش مرتب کیے ہیں. تو وہ کون سے بنیادی عناصر، قواعد و ضوابط تھے؟ جس کی بنیاد پر ان انسانوں کو عظیم ترین قرار دیا گیا کہ آپ ان کو جان سکیں تاکہ ان کو جان کر آپ انسانیت کی خدمت و فلاح میں وہ کر گزریں کے جب ہزاروں سال بعد کوئی دوسرا مائیکل ہارٹ یہ کتاب لکھے تو اس میں آپ کو بھی جگہ مل سکے اور انسانیت کو آپ سے متاثر ہوکر خدمت و فلاح کے جذبے سے سرشار کیا جا سکے. اگر عظیم شخصیات میں آپ کا نام شامل نہ بھی ہوسکے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ آپکا مقصد اتنا عظیم ہوگا کہ آپ خود ذاتی طور پر بہت زیادہ مطمئن ہوں گے اور آپ کے اردگرد موجود حلقہ احباب کم از کم آپ کو ایک انسان دوست عظیم شخصیت سمجھیں گے.
بس ایسے انسان بننے کے لیے بنیادی طور پر علم و شعور سے آگاہ ہونا ضروری ہے جس سے آپ منزل کی طرف کامیابی کا رستہ خود بنا سکیں. میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں سوالیہ انداز میں پوچھا گیا کہ تعلیم یافتہ شخص کون ہے؟ تو صاحب علم نے جواب دیا کہ
 
"جو نہیں سے ہیں تخلیق کر سکے”
 
یعنی کچھ بھی نہیں سے کچھ ہونا تخلیق کر سکے کافی غور طلب جملہ ہے بس بات آپ کی خود اعتمادی اور علم کی شمع کی طرف بھاگ بھاگ کر جانے کی ہے تو یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے.
وہ اقبال کہتا ہے نہ
 
نہیں ہے اقبال نا امید اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
 
سر ہم بیالوجی تو پڑھ نہیں رہے بلکہ ہمارا مقصد تو
 
” لائف ڈیولپمنٹ پروگرام”
 
ہے جس کے لیے یہ مضامین ترتیب دیے جا رہے ہیں اور یہ صرف زندگی کی بنیادی و ضروری معلومات ہیں جو ساتھ ساتھ شئیر ہوتی رہیں گی. اور میری کوشش ہوگی کہ ہر مضمون و تحریر کو معلوماتی و معنی خیز بنا کر آپ تک پہنچایا جائے.
بس آپ کوشش یہ کریں کہ جو وقت سوشل میڈیا، انٹرنیٹ یا روزمرہ مصروفیات کے علاوہ کہیں بھی گزاریں اس دوران کچھ نہ کچھ علم کی شمع سے اپنے دل کو منور کرنے کی کوشش کریں.
ذیل میں سوشل میڈیا کی کچھ مثالی پوسٹس کا ذکر رہا ہوں ان کو ذرا دھیان سے دیکھیں.
 
"وزیر اعظم عمران خان نے بنگالی و افغانیوں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے کیا آپ کے نزدیک یہ درست ہے؟”
"نیب کو فوری طور پر نواز شریف کو دوبارہ پکڑ کر سیدھا پھانسی پر لٹکانا چاہیے کیا آپ اس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟”
 
"کیا شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ میں اردو میں تقریر کرنا درست ہے؟”
” آج اتوار ہے تو پھر پاپا کی پریاں کپڑے دھوکر شام کو آئیں گی۔”
” چیلنج ہے پاکستان کے سپیلنگ الگ الگ لکھ کر دکھائیں۔”
” شاہد آفریدی کے فین شئیر کریں اور وہرات کولی کے لائک کریں۔”
 
یا اس قسم کی سینکڑوں دوسری پوسٹس پر کمنٹس کرنا یا انہیں شئیر کرنا کیازیادہ بہتر و ضروری ہے؟ جس سے ہماری قوم کا غیر شعوری ذہن واضح نظر آ ئے اور ایک علم سے بد ظن انسان کا چہرہ ہماری اجتماعی زندگی کی عملی تصویر بن جائے.
 
تو بجائے ان پوسٹس پر وقت ضائع کرنے کے علم کی شمع سے خود کو بھی منور کریں اور دوسروں کو بھی روشناس کروائیں۔
میں جانتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر انفارمیشن انگلش میں موجود ہے مگر میرے عزیز ہم وطنوں اس کو اپنی قومی زبان میں لانا یا جو اس کے لیے کوشش کررہے ہیں ان کا ساتھ دینا تو ہم سب کا قومی فریضہ ہے کہ نہیں؟ یہ سوال کم سے کم اپنے آپ سے ضرور پوچھیں؎
اگر ہم سب اس قومی فریضے پر پورا اترتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب ریسرچ سنٹرز وطن عزیز میں ہوں گے جو آج پوری دنیا میں ہر بڑی اکانومی اور بڑی کمپنی کی کامیابی کا بنیادی جزو ہیں۔…
 
تحریر: "ایک درست فیصلہ”

Check Also

دل

فیصلہ سازی میں دل کا کردار

انسانی جسم میں سب سے حسین تصور رکھنے والی چیز "دل” ہے. اس کے ساتھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے