Breaking News
Home / Awareness / (زندگی ( دوسری قسط

(زندگی ( دوسری قسط

(زندگی ( دوسری قسط
"وزیر اعظم بنئیے”
آج سے تقریباً تین سال پہلے جب میں پنجاب کالج لاہور میں انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا اور لاہور ریلوے اسٹیشن ،حافظ ہوٹل کے بالکل سامنے موجود ایل ٹی سی بس سٹینڈ سے
B-41
روٹ کی بس پر کالج یاترا کے لیے جایا کرتا تھا تو ڈیوس روڈ جہاں جنگ اخبار کا دفتر واقع ہے وہاں سے گزرتے ہوئے میری نظر اچانک ایک چھوٹے سے ایک اشتہار پر پڑی جو درخت کے ساتھ کیلوں کے ذریعے لگایا گیا تھا اور بمشکل اس کا سائز
2×1
فٹ ہوگا جس پر انتہائی جرات کے ساتھ یہ قابل دید جملہ لکھا تھا کہ
"وزیر اعظم بنئیے”
جسے ایک نظر دیکھتے ہی میں تو چونکا کہ بیٹا محسن یہ کیا ہے؟
ان دنوں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے میں زیادہ حیران ہوا کہ جس مشن پر میں عمل پیرا ہوں اور اپنی تعلیم سے آنکھ مچولی کھیل کر اپنا قیمتی وقت سیاسی جماعتوں کے ساتھ برباد کر رہا ہوں جبکہ اس کا جو انتہائی نتیجہ یا منزل ہے یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئینی سربراہ عزت مآب جناب وزیراعظم صاحب وہ تو یہیں سے مجھے مل سکتا ہے تو پھر میں کیوں ایک جمہوری معاشرے کے قیام کے لئے سیاسی گروہوں کے ساتھ عملاً جدوجہد میں مصروف ہوں؟
خیر بس تیزی سے نکل گئی اور وہ دن کالج میں کافی بے چین گزرا اور میں الانتظار اشد من الموت کی عملی تصویر بنے ہوئے اپنا وقت گزار رہا تھا.
واپسی پر میں اسی جگہ رکا اور اس اشتہار کو تفصیل سے دیکھا پھر پرکھا اور اس پر لکھا نمبر نوٹ کیا پھر اپنے نوکیا 1208 موبائل میں موجود موبی لنک کی سم پر 20 روپے کا ایزی لوڈ کروا کر اس عظیم ہستی کو فون کیا.
اب کیا بات ہوئی؟ ان صاحب نے مجھے کیا گائیڈ کیا؟ پھر ان سے ملاقات ہوئی اور کیا کیا ہوا؟ وہ میری زندگی کا ایک کافی سبق آموز واقعہ ثابت ہوا جس کو تفصیل سے کسی ویڈیو میں بیان کروں گا کیونکہ یہ مضمون اس کا احاطہ نہیں کرسکتا لیکن ان صاحب نے مجھے مستقبل قریب میں وزیر اعظم بننے کی امید دلوادی اور اس رات خواب میں خود کو حلف اٹھاتے گارڈ آف آنر لیتے اور وزیر اعظم ہاؤس کو ریسرچ سینٹر بنانے کا اعلان کرتا بھی دیکھ لیا جس کی وجہ سے سے کم از کم ایران کے شیخ چلی کی روح ضرور شرما گئی ہوگی.
اس کے بعد بھی میں نے کئی مقامات پر اس اشتہار کو اسی مظبوط ترین ٹائٹل کے ساتھ دیکھا 
اس واقعے کا مقصد ہمارے قومی ذہنی شعور کی ایک جھلک دکھانا تھی کہ جب دنیا کے چھٹے گنجان آباد ایٹمی قوت کے حامل ملک کے تمام الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے پاس صرف سیاست دانوں کی نجی زندگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے علاوہ کوئی ڈھنگ کی بات نہ ہو۔ 
سیاسی اختلافات جو کہ جمہوریت کا حسن ہیں جب ان اختلافات کی بنیاد پر سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کی گھریلو عورتوں پر بے ہودہ قسم کے الزامات لگائے جائیں۔ 
جب قوم کے نوجوانوں کی تخلیقی سرگرمیاں ابھارنے کی بجائے انہیں گالم گلوچ و حجت بازی سکھائی جائے۔
جب سائنسی علم میں کامیابی کے جوہر دکھا کر داد وصول کرنے کی بجائے مخالف سیاسی پارٹی کو ننگی گالیاں دے کر یہ داد سخن وصول کی جائے۔
جب ہمارے پاس قاسم علی شاہ کم پڑجائیں اور اپنی خود کی زندگی میں ناکام ہوکر مستقبل کے تجزیہ نگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔

تو محترم پھر ذہنی شعور کی یہ حالت تو خود بخود نظر آئے گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں 122 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں موجود ہیں جبکہ نان رجسٹرڈ اس سے کئی گنا زیادہ ہیں.

ویسے سیاسی محاذوں پر اتنی پھرتی دکھانے کے بعد بھی پاکستان میں سیاسی عدم توازن کی شرح کس حد تک بڑھی ہوئی ہے؟ اس کو ذرا مختصر سا ملاحظہ فرمالیں۔
دی ورلڈ اکانومی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 194 ممالک کو سیاسی استحکام و عدم استحکام کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا جس میں زیادہ سے زیادہ پوائنٹ 2.5 تھے اور کم سے کم منفی 2.5 
اب ہماری سیاسی شعور دیکھتے ہوئے پاکستان کو مکمل 2.5 ملنے چاہیے تھے یعنی سب سے زیادہ سیاسی استحکام رکھنے والا ملک لیکن یہ سیاسی استحکام و توازن کا یہ نمبر تو سنگا پور کو ملا اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کا ان ممالک میں 191 نمبر تھا اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے وطن عزیز کو منفی 2.47 پوائنٹ دیے گئے تھے 
انسانی تاریخ کا دوسرا سب سے قدیم اور مقدس ترین پیشہ سیاست ہے جس کا مقصد ہی خدمت انسانیت ہے لیکن اسے اہم ترین پیشے کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر جس بے رحمی و درندگی سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے شاید ہی کسی پیشے کی اتنی بے حرمتی کی گئی ہو.
اسی لئے میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ علم و شعور کی آگاہی پھیلانی چاہیے جو ہمارا قومی فریضہ بھی ہے جب ایسا عملاً ہوگا تو مادر ملت میں پیدا ہونے والا ہر سیاست دان نیلسن منڈیلا یا ڈاکٹر عبدالکلام ہوگا.
میں کسی بھی صورت میں مایوسی کی فضا قائم کرنے کے حق میں نہیں لیکن کم از کم یہ ایک اسی خطرناک صورتحال ہے جس سے نپٹنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ آج کے نوجواں کو ہر حال میں ہمیں سائنس و جدید علم کی طرف رجحان بڑھانے میں مدد دینی ہوگی۔

دوسرا اس کا مقصد یہ تھا کہ اپنا رخ حقیقی زندگی کی طرف موڑیں ورنہ جب تک آپ حقیقی زندگی کے تلخ تجربات و معاملات سے لطف اندوز ہوں نہیں ہوں گے تو کسی بھی صورت میں آپ کامیابی کی ادنی سطح کو بھی نہیں پہنچ سکتے.
اب خواہ اس کا تعلق تعلیمی زندگی سے ہو، خواہ پروفیشنل زندگی، خواہ سیاسی زندگی، یا پھر گھریلو زندگی سے ہو جس میں ہمارا تعلق ماں باپ، بہن بھائی، بچے یا بچوں کی اماں، آپ کے دل کی دھڑکن جس سے شروع میں تعلق مچھلی و پانی جیسا ہوتا ہے جو اکثر و بیشتر ناسمجھ فیصلوں کی وجہ سے پنجرے و پنچھی جیسا ہوجاتا ہے.
چلیں سر آج کا مضمون زندگی کے بنیادی عناصر کا آغاز کرتے ہیں
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ آپ زندہ ہیں تو میری یہ تحریر کو پڑھ پا رہے ہیں اور میں زندہ ہوں تو یہ لکھ رہا ہوں
اور یہ آپ تک پہنچ رہا ہے ایسا ضروری نہیں کہ ہر موجود و حرکت کرنے والی چیز زندہ ہو جیسا کہ آسمان سے ہونے والی برفباری کوئی زندگی نہیں ہے. اور جس موبائل یا کمپیوٹر سے یہ تحریر آپ پڑھ رہے ہیں وہ زندہ نہیں ہے جس کرسی پر بیٹھ کر اور جس میز پر اپنا لیپ ٹاپ رکھے ہوئے ہیں وہ زندہ نہیں ہے. آپ کی لکڑی کی کرسی میں استعمال ہونے والے پارٹ کبھی زندہ تھے جب وہ ایک عام سے درخت یا میرے پسندیدہ پھل آلو بخارا کے درخت یا آپکے کسی پسندیدہ پھل کے درخت کا حصہ تھے.
اب زندگی کے عناصر کو سمجھنے کے لیے ہم خصوصیات زندگی کو دیکھتے ہیں کہ کس بناپر یہ کہا جائے گا؟ یہ شے زندہ ہے.
Organization
زندہ اشیاء کے لیے ان کا منظم و با ترتیب انداز میں ہونا بہت ضروری ہے اور یہی سب سے پہلی خصوصیت ہے.
اس ترتیب سازی کا بنیادی جزو سیل یعنی خلیہ ہے جس سے مل کر جسم بنتا ہے.
ہر قسم کی زندگی کی تنظیم سازی میں دو قسم کی خلیاتی زندگی ہوتی ہے ایک یونی سیلولر یعنی یک خلیاتی نظام جس میں ہر ایک سیل مالیکیولز بناتا ہے.جس سے آگے پورے جسم کا سٹرکچر ترتیب پاتا ہے.
دوسری ملٹی سیلولر جو کافی پیچیدہ ہوتی ہیں ہم انسان اسی آخر الذکر نظام سے تخلیق شدہ ہیں جس کی واضح مثال انسانی زندگی کا اور خاص طور پر دماغ کا انتہائی پیچیدہ ہونا ہے.
Metabolism
زندگی کی دوسری خصوصیت میٹا بولزم ہے اس کا مطلب ہے زندہ شے کے جسم میں ہر وقت کوئی نہ کوئی بائیوکیمیکل ری ایکشنز جاری رہتے ہیں جس کی واضح مثال اس جسم کا ایک جیسا نہ رہنا ہے کیونکہ ہم انسانی زندگی پڑھ رہے ہیں اس لیے زیادہ مثالیں میں انسانی زندگی کی ہی عرض کروں گا تو انسان ایک سا نہیں رہتا اس کے جسم کا ہر ایک حصہ تبدیل یعنی بڑا یا چھوٹا ہوتا رہتا ہے.
بچہ جس کا جسم انتہائی چھوٹا ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے اور بڑی عمر یعنی بڑھاپے میں خاص طور پر والدہ محترمہ یا دادی جان وغیرہ کا قد کم. ہو جاتا ہے جس کی کئی وجوہات ہونے کے ساتھ ساتھ یہ میٹا بولزم بھی ایک اہم وجہ ہے.
جس میں حالت کا تبدیل ہونا، جسم کا دوبارہ تخلیق ہونا اور جسم کے ڈھانچے کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ یہ سب بائیو کیمیکل ری ایکشنز زندہ اشیاء انرجی و غذا کی مدد سے کرتی ہیں۔ اور ان سب بائیو کیمکل ری ایکشنز کے مجموعے کو میٹا بولزم کہا جاتا ہے۔ اس کی آگے مزید دو اقسام ہیں۔
Homeostasis
زندگی کی تیسری خصوصیت ہومسٹاسس ہے۔ اپنے اردگرد موجود ماحولیاتی اثرات کا قبول کرنا اور اس بنیاد پر آپ کے جسم کے ٹمپریچر کا بڑھنا یا کم ہونا اسی خصوصیت کی وجہ سے ہے۔ بخار کا ہونا اس کی مثال ہے۔
Growth
گروتھ زندہ شے کے لیے انتہائی اہم خصوصیت ہے۔ اور نظرئیہ ارتقاء کا تعلق زندگی کی اسی خصوصیت کے ساتھ ہے۔ یعنی زندہ جسم کے خلیوں میں ہر وقت اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ انسان کی زندگی کے آغاز میں موجود ایک سیل بعد ازاں ایوریج باڈی میں 10 ٹریلین سیلز تک جا پہنچتا ہے۔ اور یہ سارے کا سارا پراسیس ڈی این اے و پروٹینز پر مشتمل ہوتا ہے۔
Reproduction
زندہ اشیاء کی مدد سے نئی و دوبارہ زندگیاں تخلیق کی جا سکتی ہیں جس کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ 
(a) Asexual
اس میں سنگل پیرنٹ آرگنزم کی مدد سے زندگی کا وجود ہوتا ہے ۔ 
(b) Sexual 
جس میں زندگی کے وجود کے لیے نر اور مادہ کے آرگنزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر ہم انہی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
Response
زندہ اشیاء کے لیے اس خصوصیت کا حامل ہونا بھی ضروری ہے جیسے اگر آپ کے ہاتھ کو آگ کے قریب لایا جائے تو آپ فورا اسے پیچھے جھٹکیں گے تو یہ اسی خصوصیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انسان کے جسم میں ہونے والا درد جس کو وہ محسوس کرتا ہے وہ بھی اس وجہ سے ہے۔
Evolution
زندگی کی سب سے آخری خصوصیت ارتقاء کی حالت ہے اگرچہ اس پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن زیادہ تر محقیقین کے پیش کیے جانے والے شواہد اس کے حق میں ملتے ہیں۔ اور اس کا انکار بھی کسی ایک خاص صورت میں کیا جاتا ہے لیکن ارتقاء کو مکمل طور پر جھٹلایا کبھی بھی نہیں جاسکتا ۔ 
جس کے بارے میں احسان دانش نے کہا تھا کہ
اے ہم نشیں کلام میرا لاکلام ہے 
سن! زندگی تغیر پیہم کا نام ہے۔
تو سر یہ زندگی کے کچھ بنیادی عناصر تھے جن پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے۔
ہوسکتا ہے کچھ مزید خصوصیات و عناصر بھی ہوں اور ان کو بیالوجی کی مدد سے مزید واضح کیا جاسکے لیکن یہ صرف وہ بنیادی معلومات ہیں جن کی روز مرہ زندگی میں ہمیں ضرورت بھی پڑسکتی ہے اور ساتھ میں زندگی کا یہ مضمون ختم کرکے ہمیں آگے بھی پڑھنا ہے ہمارے سامنے مکمل
لائف ڈیولپمنٹ پروگرام
ہے۔

Check Also

خود کلامی

خود کلامی

یہ کیا روز روز ڈرامے بازی لگا رکھی ہے؟ایک دفعہ میں تمہیں بات سمجھ نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے