Breaking News
Home / Attitude / خود کلامی

خود کلامی

یہ کیا روز روز ڈرامے بازی لگا رکھی ہے؟
ایک دفعہ میں تمہیں بات سمجھ نہیں آتی؟
کوئی عقل، سمجھ بوجھ ہے تمہیں؟
.دماغ میں تمہارے صرف بھوسا بھرا ہوا ہے
تم نے تو تماشا بنا کے رکھا ہوا ہے

.لگتا ہے ایسے تم نے ماننا ہی نہیں اور اپنی مکمل تباہی کروا کر ہی تمہیں سہی طرح سمجھ آئے گی

ساری دنیا تمہارے اردگرد موجود تمہارے دوست، رقیب حلیف، حریف، رشتہ دار سب اپنے اپنے کاموں میں دن بدن ترقی کررہے ہیں اور تم ہوکہ تمہاری سوئی آج بھی ادھر ہی اٹکی ہوئی ہے

اگر کوئی کامیاب ہوگیا ہے تو تم حسد کا بہانہ بنا کر ان کے ذکر سے پرہیز کرتے ہو تاکہ تمہیں شرمندگی نہ ہو
یاد رکھو! اس سے تم صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہو لیکن فطری اصولوں کے تحت دنیا میں چلنے والے سسٹم سے دغابازی نہیں کرسکتے- ہاں !محنت سے جی چراتے ہوئے یہ جو تم دغابازی کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہو اس کی پاداش میں فطرت تم سے ضرور انتقام لے گی۔

یقیناً وہ تم سے انتقام لے گی کہ اس نے تمہیں ہر قسم کی صلاحیت سے نوازا, تمہیں تمہارے ضمیر کی آواز سنائی لیکن تم بہت بڑے دھوکے باز ہو کیونکہ تم خود کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہو. بلکہ تم مجرم ہو کیونکہ تم نے سنا ہوگا کہ
"غریب پیدا ہونا جرم نہیں ہے بلکہ غریب مرنا جرم ہے”

اور اگر تم امیر گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود غریب ہوجاتے ہو تو یقیناً تم سب سے بڑے مجرم ہو. تم اپنی آنے والی کئی نسلوں کے جو تمہاری وجہ سے اس غربت کی چکی میں پس جائیں گی تم ان کے مجرم ہو. اصل میں تمہاری کرتوتوں نے تمہارے ضمیر کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا ہے جس وجہ سے تم پر کچھ اثر ہی نہیں ہورہا
روز ارادہ کرتے ہو کہ
آج اپنا کام دل لگا کر کروں گا
امتحانات آنے والے ہیں اچھے سے مکمل تیاری کروں گا

لیکن تمہیں فیس بک یا دوسرے سوشل میڈیاز سے چھٹکارا ملے تو تم سہی کام کرسکو گے. تم مجھے ایک بات بتاؤ کہ
تم کوئی ہنی سنگ ہو؟
کیا تم مائکل جیکسن ہو؟
تم کوئی مارک زکر برگ ہو؟

کیا تمہارے لاکھوں فین ہیں؟ جو کئی کئی گھنٹے سوشل میڈیا کی سے چمڑے رہتے ہو
نہیں بتاؤ نہ اب؟

تمہیں ایک محبوبہ کیا مل گئی تم تو پاگل ہی ہو گئے ہو. ٹھیک ہے وہ
بہت خوبصورت ہے
جاذب نظر ہے
نہایت پرکشش ہے
تمہارا کرش ہے
تمہارے دماغی سکون کا باعث ہے
اس کی محبت تمہیں دیوانہ بنا دیتی ہے

میں تمہاری ان ساری باتوں کو مانتا ہوں بلکہ وہ اس سے کئی گنا زیادہ ہوگی کیونکہ یہ کمبخت عشق چیز ہی ایسی ہے. لیکن بھائی! اب حالات ذرا تبدیل ہو چکے ہیں ہر طرف مادیت پرستی ہے اس لیے یہ جو تم اپنے باپ کی کمائی پر جانو کی خدمت کرکے اپنی محبت کا اظہار کررہے ہو نہ؟

تم سے پہلے بچے کے پیمپر پورے نہیں پڑنے بیٹا؟ اگر تمہارا چلن یہی رہا
نتیجتاً پھر وہی جو چلتا ہے اس معاشرے میں وہی ہوگا. ایک بابا کی گڑیا کو جھوٹے خواب دکھا کر اس کو اپنے گھر کی دلہن تو بنا لو گے لیکن اس دنیا کے موجودہ تقاضوں پر پورا نہ اترنے کے سبب تم اس دھوکہ دہی ہر مبنی زندگی کو زیادہ دیر تک چلا نہیں پاؤ گے اور ہوسکتا ہے تمہیں منہ کی کھانی پڑے پھر تمہیں پتہ لگے گا کہ

کس بھاؤ بکتی ہے؟

لیکن تب تک تم ایک لڑکی کے جسم سے بھرپور انجوائے کرچکے ہوگے اور اب تمہارے لیے اس کی قدر بھی کم ہوچکی ہوگی اس لیے اپنی غلطیوں کی سزا تم اس کو دوگے اور اسے بے سہارا کرکے خود کو پھر اسی دھوکے میں رکھو گے جس میں آج تک جیتے آئے ہو کہ
یہ ہوجائے گا وہ ہو جائے گا فلاں ہو جائے گا فلاں ہوجائے گا لیکن بیٹا یاد رکھنا تمہاری دھتکاری گئی کی زندگی تو گزر ہی جائے گی ہوسکتا ہے مزید بہتر ہوجائے کیوں کہ صنف نازک تو درد و تکالیف کو بہت آسانی سے برداشت کرجاتی ہے اگر نہیں یقین تو اس دن کو یاد کرو جب تم پیدا ہوئے تھے اور اس دنیا کا سب سے زیادہ درد سہہ کر موت کے منہ تک پہنچ کر تمہاری ماں نے تمہیں پیدا کیا تھا.

لیکن جو تمہارا حشر ہوگا وہ ناقابل بیاں ہے تم صرف ذلیل و رسوا ہوگے اگر زیادہ سے زیادہ مالی طور پر کچھ کر بھی سکے تو یہی ہوگا کہ تمہاری کسی جگہ مناسب سی جاب لگ جائے گی کیونکہ تم جیسوں کی کثرت بہت زیادہ ہے اس لیے اس جاب سے تم اپنا مناسب سا خرچہ پانی چلا لو گے اور اپنی شریکِ حیات کو بھی صبر کی تلقین کرکے قسمت کو مورد الزام ٹھہرا دو گے
لیکن تم تڑپو گے تمہیں چین نہیں ملے گا تم حسرت بھری آنکھوں سے دیکھو گے جب تمہارے ساتھ پڑھنے والا حمزہ ایک اچھا بزنس مین بن چکا ہوگا، اسکی گاڑی کو دیکھ کر ترسو گے اس کے بنگلے کو دیکھ کر ترسو گے اور اسے اس ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے دیکھ کر ترسو گے جس میں جانے کی تمہاری اوقات نہیں ہوگی.
اس لیے میری بات مان لو جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ اور باقاعدگی سے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا شروع کردو۔ اور وہ تمہیں سارا پتہ ہے کہ کیسے کرنا ہے؟ زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔

ابھی میں نے تمہاری بہت کم عزت افزائی کی ہے میں تم سے معافی مانگتا ہوں کہ میں نے کافی سخت الفاظ استعمال کیے ہیں میں نے آپکے لئے صیغہ واحد "تم” کا استعمال کیا ہے لیکن آپ یقین کرو مجھے آپکی بہت زیادہ فکر ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ زندگی میں بھرپور ترقی کرو لوگ اپنے بچوں کو آپکی ترقی کی مثالیں دیں اور آپکی شریک حیات جو کہ مکمل طور پر محبت و الفت کا مظہر ہوتی ہے وہ آپکو اپنا فخر سمجھے اسے لگے کہ اسکی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ آپ کو اپنا سرتاج منتخب کرنا تھا. اور آپ دونوں کی ایک اپنی چھوٹی سی دنیا ہو جس میں صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں اور اسے کبھی غم سے واسطہ نہ پڑے

امید ہے کہ سمجھ جاؤ گے وگرنہ مستقبل قریب میں اس سے بھی زیادہ کلاس ہوگی اور ساتھ میں چھترول بھی ہوسکتی ہے اس لیے یہ نہ ہو پھر

بڈھے ویلے کہندا پھریں

"اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیا چگ گئی کھیت”

Check Also

destiny

قسمت آزمائی

اکثر لوگ مواقعوں کی تلاش میں اپنی زندگیاں صرف کردیتے ہیں اور وہ اس انتظار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے